جمعہ 4 ستمبر 2026 - 20:28
خامنہ ای فکر ہے، اور فکر کبھی مر نہیں سکتی؛ بھیک پور میں رہبرِ شہید کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا

حوزہ/ حوزۂ علمیہ آیت اللہ خامنہ ای، بھیک پور کی جانب سے رہبرِ شہید کے چہلم کے موقع پر خصوصی علمی، فکری اور ادبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء، شعراء، محققین، اساتذہ، وکلاء اور عاشقانِ ولایتِ فقیہ نے شرکت کی۔ مقررین نے رہبرِ شہید کی فکری و انقلابی خدمات، ولایتِ فقیہ سے ان کی وابستگی اور ان کے افکار کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شخصیات دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں، مگر ان کی فکر اور پیغام زندہ رہتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بھیک پور، بہار/ حوزۂ علمیہ آیت اللہ خامنہ ای، بھیک پور، بہار، ہندوستان کی جانب سے رہبرِ شہید کے چہلم کے موقع پر ایک خصوصی علمی، فکری اور ادبی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں رہبرِ شہید کی یاد، ان کی فکری و انقلابی خدمات اور نظریۂ ولایتِ فقیہ کے فروغ کے لیے ان کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر علاقے کے عاشقانِ ولایتِ فقیہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور رہبرِ شہید سے اپنی عقیدت و وابستگی کا اظہار کیا۔

خامنہ ای فکر ہے، اور فکر کبھی مر نہیں سکتی؛ بھیک پور میں رہبرِ شہید کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا

بہار کی سرزمین، بالخصوص بھیک پور کا علاقہ، گزشتہ کئی برسوں سے ولایتِ فقیہ، انقلابِ اسلامی، رہبرِ کبیر اور رہبرِ شہید کی فکر کے فروغ کے لیے مختلف علمی، فکری اور ادبی پروگراموں کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ یہاں کبھی نشستِ فکر، کبھی بزمِ ادب اور کبھی رہبرِ شہید و دیگر شہداء کی یاد میں علمی و فکری پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں علماء، شعراء، محققین، مؤلفین، اساتذہ، پروفیسرز، وکلاء اور اہلِ قلم بھرپور شرکت کرتے ہیں۔

اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی حوزۂ علمیہ آیت اللہ خامنہ ای ہے، جو گزشتہ 18 برسوں سے ہر سال ولایت کانفرنس کا انعقاد کرتا آ رہا ہے۔ ان کانفرنسوں اور دیگر علمی و ادبی پروگراموں میں ولایتِ فقیہ، انقلابِ اسلامی اور انقلابی فکر کے موضوعات پر اب تک تقریباً دو ہزار انقلابی و فکری اشعار پیش کیے جا چکے ہیں، جبکہ ولایتِ فقیہ، رہبرِ کبیر، رہبرِ شہید اور انقلابی افکار کے مختلف پہلوؤں پر متعدد مقالات بھی پیش کیے گئے ہیں۔ اسی دوران متعدد کتابوں کی تقریبِ رونمائی بھی منعقد ہو چکی ہے، جبکہ ان علمی و فکری سرگرمیوں کے تحت پیش کیے جانے والے مقالات کی مجموعی تعداد تقریباً تین ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

اسی سلسلے کے تحت بھیک پور میں رہبرِ شہید کا چہلم نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ پروگرام کا مقصد رہبرِ شہید کی حیات، ان کی فکری و انقلابی خدمات، ولایتِ فقیہ سے ان کی وابستگی اور ان کے افکار و نظریات کو نئی نسل تک پہنچانا تھا۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حوزۂ علمیہ آیت اللہ خامنہ ای کے مؤسس حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید شمع محمد رضوی نے رہبرِ شہید کی فکر کو زندہ رکھنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی یاد میں مسلسل جلسے، نشستیں اور علمی و فکری پروگرام منعقد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ ان کی قربانیوں، افکار اور نظریات کو معاشرے میں مزید اجاگر کیا جا سکے۔

انہوں نے شعرائے کرام سے بھی خصوصی طور پر تاکید کی کہ رہبرِ شہید اور ولایتِ فقیہ کے پیغام کو شعری زبان میں عوام تک پہنچایا جائے۔ ان کی اس دعوت پر شعرائے کرام نے ولایتِ فقیہ، علم و حکمت، اخلاق، مصلحت، تدبر، بردباری اور انقلابِ اسلامی جیسے موضوعات پر اپنے انقلابی اشعار پیش کیے اور اپنے کلام کے ذریعے رہبرِ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

مولانا سید شمع محمد رضوی نے اپنے خطاب میں حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں رہبرِ معظم کے حوالے سے مختلف تحقیقی اور فکری نکات بھی پیش کیے۔ انہوں نے موجودہ رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے سلسلے میں عہد و میثاق اور وفاداری کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے ولایتِ فقیہ سے وابستگی کو مزید مضبوط بنانے کی دعوت دی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رہبرِ شہید کو صرف کسی ایک خاص موقع پر یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ ہر علمی و فکری پروگرام میں شہداء، بالخصوص رہبرِ شہید کی خدمات اور قربانیوں کو اجاگر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان شاء اللہ آئندہ ماہ سے مختلف علاقوں میں بھی شہداء کی یاد میں خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں گے، تاکہ ان کی قربانیوں اور افکار کو عام کیا جا سکے۔

خامنہ ای فکر ہے، اور فکر کبھی مر نہیں سکتی؛ بھیک پور میں رہبرِ شہید کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا

پروگرام کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ اس میں علماء و خطباء کے ساتھ ساتھ محققین، مؤلفین، پروفیسرز، اساتذہ اور وکلاء نے بھی شرکت کی۔ اس طرح یہ اجتماع محض ایک مذہبی پروگرام تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک علمی، فکری اور ادبی نشست کی صورت اختیار کر گیا، جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہلِ علم نے رہبرِ شہید کی فکر اور ولایتِ فقیہ کے موضوع پر اپنے خیالات اور وابستگی کا اظہار کیا۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی تلاوت اور نظامت کے فرائض مولانا محمد رضا معروفی نے انجام دیے۔ انہوں نے پروگرام کے مختلف مراحل کو منظم انداز میں آگے بڑھایا۔

اس کے بعد مدح خوانی اور شعری نشست کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں شعرائے کرام نے ولایتِ فقیہ، رہبرِ شہید اور انقلابی فکر کے موضوعات پر اپنے منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیے۔ اس موقع پر سید اقبال حسین ایڈووکیٹ، سید انتظار حسین رضوی اور پرویز بھیک پوری نے اپنے کلام کے ذریعے رہبرِ شہید اور فکرِ ولایتِ فقیہ سے اپنی عقیدت و وابستگی کا اظہار کیا۔ شعرائے کرام نے علم و حکمت، اخلاق، مصلحت، تدبر، بردباری اور انقلابِ اسلامی جیسے مختلف موضوعات کو اپنے اشعار کا حصہ بنایا، جس سے پروگرام کی ادبی و فکری فضا مزید مؤثر ہوگئی۔

پروگرام کی ایک خاص اور قابلِ ذکر خصوصیت علومِ عصری کے استاد، مقالہ نگار اور محقق سید آلِ ابراہیم رضوی کا خطاب تھا، جو انہوں نے انگریزی زبان میں پیش کیا۔ انہوں نے رہبرِ شہید کی تاریخ، ان کی فکری جدوجہد اور خدمات کو تفصیل سے بیان کیا اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ رہبرِ شہید کی شخصیت اور ان کی فکر آج بھی مختلف حلقوں میں یاد کی جا رہی ہے۔ ان کا خطاب اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ اس کے ذریعے رہبرِ شہید کے افکار و خدمات کو جدید تعلیم یافتہ اور انگریزی داں طبقے تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

پروگرام کے اختتام پر علماء، شعراء، محققین اور دیگر شرکاء نے رہبرِ شہید اور تمام شہداء کی خدمات و قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ولایتِ فقیہ، اتحاد، بیداری اور انقلابی فکر کے پیغام کو معاشرے میں عام کرنے کے لیے علمی، فکری اور ادبی سرگرمیوں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

خامنہ ای فکر ہے، اور فکر کبھی مر نہیں سکتی؛ بھیک پور میں رہبرِ شہید کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا گیا

بھیک پور میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام نہ صرف رہبرِ شہید کی یاد کو تازہ کرنے کا ذریعہ بنا بلکہ اس خطے میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری علمی، فکری اور ادبی سرگرمیوں کی ایک اہم کڑی بھی ثابت ہوا۔ حوزۂ علمیہ آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے جاری یہ سلسلہ اس پیغام کا مظہر ہے کہ شخصیات دنیا سے رخصت ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی فکر، نظریات اور پیغام زندہ رہتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha